MOJ E SUKHAN

ایک دیوار اگر ہو تو یہاں سر ماریں

غزل

ایک دیوار اگر ہو تو یہاں سر ماریں
ایک دیوار کے پیچھے ہیں کئی دیواریں

ہم کو لوٹا دے ہمارا وہ پرانا چہرہ
زندگی تیرے لیے روپ کہاں تک دھاریں

پاس کچھ اپنے بچا ہے تو یہی اک لمحہ
آخری داؤ ہے جیتیں کہ یہ بازی ہاریں

تم کبھی آگ میں پل بھر تو اتر کے دیکھو
کون کہتا ہے کہ شعلوں میں نہیں مہکاریں

قید ہیں کون سے زنداں میں نہ جانے ہم لوگ
روز اونچی ہوئی جاتی ہیں قمرؔ دیواریں

قمر اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم