MOJ E SUKHAN

میں تیری ہی آواز ہوں اور گونج رہا ہوں

غزل

میں تیری ہی آواز ہوں اور گونج رہا ہوں
اے دوست مجھے سن کہ میں گنبد کی صدا ہوں

جس راہ سے پہلے کوئی ہو کر نہیں گزرا
اس راہ پہ میں نقش قدم چھوڑ رہا ہوں

میں اپنے اصولوں کا گراں بار اٹھائے
ہر وقت ہواؤں کے مخالف ہی چلا ہوں

بے مایہ حبابو مجھے دیکھو کہ عدم سے
میں سوئے ابد سیل کی صورت میں بہا ہوں

ہر عصر کی تخلیق میں کچھ ہاتھ ہے میرا
میں وقت کے زنداں میں بھی آزاد رہا ہوں

صدیوں سے میں اپنے کو بنانے میں ہوں مصروف
بندہ ہوں مگر غور سے دیکھو تو خدا ہوں

حالات کی گردش سے ہراساں نہیں جاویدؔ
میں گردش افلاک کی گودی میں پلا ہوں

عبد اللہ جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم