MOJ E SUKHAN

ترا بلبل ہوں تجھ گل کی قسم ہے

غزل

ترا بلبل ہوں تجھ گل کی قسم ہے
برہ سوں مست ہوں مل کی قسم ہے

رقیب رو سیہ کھاوے گا اب مار
مجھے تجھ کالے کاکل کی قسم ہے

لئے دل پھرتے ہیں دور زلف میں
مجھے اوس کے تسلسل کی قسم ہے

نہ کر توں بوالہوس اوپر تلطف
ترے دل کے تامل کی قسم ہے

خدا آخر کرے گا خوش مرا دل
مجھے اپنے توکل کی قسم ہے

نہیں ہوتا ہوں ملنے سیں کبھی سیر
ترے من کے تفضل کی قسم ہے

نہ رہ غافل توں اپنے مبتلاؔ سوں
تجھے تیرے تغافل کی قسم ہے

عبید اللہ خاں مبتلا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم