MOJ E SUKHAN

پتا تھا دور کر دو گے

غزل

پتا تھا دور کر دو گے
غموں سے چور کر دو گے

فلک پر جو ستارے ہیں
انہیں بے نور کر دو گے

مجھے اتنا رلا کر تم
بہت مشہور کر دو گے

محبت زخم گہرا ہے
اسے ناسور کر دو گے

صنم زخموں کو مہکا کر
انہیں پر نور کر دو گے

اگر زلفیں گرا دو گے
شب دیجور کر دو گے

عنایت گر رہی یوں ہی
مجھے مغرور کر دو گے

تمہیں لہرا کے یہ آنچل
فضا مسحور کر دو گے

ہمیں تم چھوڑ کر ساغرؔ
ستم بھرپور کر دو گے

عبد المجید ساغر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم