MOJ E SUKHAN

یہ آنکھ نم تھی زباں پر مگر سوال نہ تھا

غزل

یہ آنکھ نم تھی زباں پر مگر سوال نہ تھا
ہم اپنی ذات میں گم تھے کوئی خیال نہ تھا

سجا لیا ہے ہتھیلی پہ ہم نے اس کا نام
اس لیے تو بچھڑ جانے کا ملال نہ تھا

اگرچہ معتبر ٹھہرے تھے ہم زمانے میں
ہمارے پاس تو ایسا کوئی کمال نہ تھا

اسی کے ساتھ تھے ہم اس سے بے خبر رہ کر
اگرچہ رابطہ اس سے کوئی بحال نہ تھا

ترے ہی نام پہ یہ زندگی کٹی ساری
اگرچہ تیرا کبھی بھی ہمیں وصال نہ تھا

طاہرہ جبین تارا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم