غزل
پیار محبت قسمیں وعدے سب جھوٹے افسانے ہیں
سچی باتیں لکھ کر ہم کو اپنے یار گنوانے ہیں
اس اندھیر نگر میں ہم کو پیار کی ہے امید ابھی
ہم کو دیکھو دنیا والو ہم کیسے دیوانے ہیں
ہر ساتھی کے دل میں ہم نے جھانک کے اکثر دیکھا ہے
ملتے ہیں سب اپنے بن کر لیکن سب بیگانے ہیں
یوں تو اس دنیا میں تارہ چاہت کے سامان بھی ہیں
لیکن ہم کو یاد میں اس کی کھو کر دن یہ بتانے ہیں
طاہرہ جبیں تارا