MOJ E SUKHAN

ہم سفر کہاں پہنچے کچھ پتا نہیں ملتا

غزل

ہم سفر کہاں پہنچے کچھ پتا نہیں ملتا
راستے ہیں سب چپ چپ نقش پا نہیں ملتا

ان حسین لمحوں کو بھولنا بھی کب چاہوں
لیکن اس کی یادوں میں وہ مزا نہیں ملتا

زیست کے سفر میں بھی روح کے نگر میں بھی
اس کو ڈھونڈھتی ہوں میں اور پتا نہیں ملتا

کون یوں بلاتا ہے ہر طرف صدائیں ہیں
یہ قدم تو اٹھتے ہیں راستہ نہیں ملتا

اپنے آپ کو ہر دم کھوجتی ہی رہتی ہوں
اپنی ذات کا لیکن کچھ سرا نہیں ملتا

یوں تو دور تک تاراؔ سب فضا معطر ہے
اور ہوا کو آنگن کا در کھلا نہیں ملتا

طاہرہ جبین تارا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم