MOJ E SUKHAN

نہ سوچیں اہل خرد مجھ کو آزمانے کو

غزل

نہ سوچیں اہل خرد مجھ کو آزمانے کو
میں جانتا ہوں بہت عقل کے فسانے کو

نہیں قفس سے نکلنے کی آرزو صیاد
دکھا دے ایک نظر میرے آشیانے کو

اسیر کر کے قفس میں مجھے یہ حیرت ہے
وہ کہہ رہے ہیں مجھی سے چمن بچانے کو

سلوک اہل چمن سے یہ باغباں نے کیا
قفس سمجھنے لگے ہیں سب آشیانے کو

بتاؤ تم کو یہ کیا ہو گیا ہے اہل چمن
جلا رہے ہو جو خود اپنے آشیانے کو

جفا و ظلم کے اس تند تیز طوفاں میں
وہ مجھ سے کہتے ہیں شمع وفا جلانے کو

گرا رہے ہیں مسلسل وہ بجلیاں دانشؔ
بتاؤ کیسے بچاؤ گے آشیانے کو

دانش فراہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم