MOJ E SUKHAN

وہ لوگ بھی ہیں جو موجوں سے ڈر گئے ہوں گے

غزل

وہ لوگ بھی ہیں جو موجوں سے ڈر گئے ہوں گے
مگر جو ڈوب گئے پار اتر گئے ہوں گے

لگی یہ فکر نئی دل کو آ کے منزل پر
کہاں بھٹک کے مرے ہم سفر گئے ہوں گے

پلٹ کے آنکھ میں وہ موج خوں نہیں آئی
چڑھے ہوئے تھے جو دریا اتر گئے ہوں گے

چلے تو ایک ہی رستے پہ ہم مگر نہ ملے
ملے بھی ہوں گے تو بچ کر گزر گئے ہوں گے

جو موت سے نہ ڈرے وہ بھی تیرے ساتھ نہیں
کہ زندگی کے سوالوں سے ڈر گئے ہوں گے

جہاں یہ باغ ہے پہلے یہاں بیاباں تھا
ضرور ادھر سے ترے خوش نظر گئے ہوں گے

جو شاہراہوں پہ دیکھے ہیں لوگ پتھر کے
طلب میں جینے کی یہ سوئے زر گئے ہوں گے

ہماری کشت دل و جاں سے اس کی مژگاں تک
یہ سلسلے ترے اے چشم تر گئے ہوں گے

جو مل گیا ہے تو اب مجھ سے حال ہجر نہ پوچھ
کسی طرح سے وہ دن بھی گزر گئے ہوں گے

سلیمؔ زیست تو مشکل تھی بے‌ دیاروں کی
وطن سے دور کہیں جا کے مر گئے ہوں گے

سلیم احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم