MOJ E SUKHAN

تھا پا شکستہ آنکھ مگر دیکھتی تو تھی

غزل

تھا پا شکستہ آنکھ مگر دیکھتی تو تھی
مانا وہ بے عمل تھا مگر آگہی تو تھی

الزام نارسی سے مبرا نہیں تھی سیپ
لیکن کسی کے شوق میں ڈوبی ہوئی تو تھی

مانا وہ دشت شوق میں پیاسا ہی مر گیا
اک جھیل جستجو کی پس تشنگی تو تھی

احساس پر محیط تھے لفظوں کے دائرے
لفظوں کے دائروں میں مگر زندگی تو تھی

ویراں تھا صحن باغ مگر اس قدر نہ تھا
کونے میں سوکھے پتوں کی محفل جمی تو تھی

غم دور کر کے اور بھی مفلوج کر دیا
تنہائیوں کی رات میں دل بستگی تو تھی

اس ٹھنڈی رات میں تو اندھیرے کا راج ہے
سورج جلا رہا تھا مگر روشنی تو تھی

فرحت قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم