MOJ E SUKHAN

سفارش کی ضرورت ہی نہ ہوتی

غزل

سفارش کی ضرورت ہی نہ ہوتی
نوازش کی ضرورت ہی نہ ہوتی

اگر آتا ہمیں حق چھین لینا
گزارش کی ضرورت ہی نہ ہوتی

اگر سوکھے کنویں شبنم سے بھرتے
تو بارش کی ضرورت ہی نہ ہوتی

نہیں آتے اگر دنیا میں ہم تو
رہائش کی ضرورت ہی نہ ہوتی

حسینوں کا جو ہوتا حسن سادہ
نمائش کی ضرورت ہی نہ ہوتی

اگر ہوتا نہ شوق خود ثنائی
ستائش کی ضرورت ہی نہ ہوتی

سیاست داں جو طبعی موت مرتے
تو سازش کی ضرورت ہی نہ ہوتی

اگر تم ؔخواہ مخواہ کرتے قناعت
تو خواہش کی ضرورت ہی نہ ہوتی

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم