MOJ E SUKHAN

اپنی آنکھوں کے صدف کو حسن کا گوہر نہ دے

غزل

اپنی آنکھوں کے صدف کو حسن کا گوہر نہ دے
شام کی ویرانیاں دے صبح کا منظر نہ دے

ساتھ ہے بے چہرگی کے کارواں کا سلسلہ
دوستی کے آئنے کو یاد کا جوہر نہ دے

سرد رومانی پہر کا جذبۂ تخلیق ہوں
مجھ کو ایام گزشتہ کی کوئی چادر نہ دے

فکر و فن کا اک نیا انداز ہوں اس دور میں
گرد راہ آگہی ہوں آسماں دے گھر نہ دے

رفتہ رفتہ مصلحت کی نہر میں اتروں گا جب
اے غم دوراں تو مجھ کو وہم کا نشتر نہ دے

شاعری اپنی ہے جامیؔ عہد نو کی داستاں
میرؔ کے آنسو سہی خیام کے تیور نہ دے

عبدالمتین جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم