MOJ E SUKHAN

کرتا ہوں اب کے بار میں توبہ سے توبہ یار

غزل

کرتا ہوں اب کے بار میں توبہ سے توبہ یار
کس واسطے کہ ٹوٹی ہے توبہ ہزار بار

جل ہی گیا فراق تو آتش سے ہجر کی
آنکھوں میں مری رہ نہ سکا یارو انتظار

برباد میری خاک ہوئی واں نہ لے گئی
دل میں مرے رہے گا صبا سے یہی غبار

ساغر تجھے قسم ہے سر خم کی جلد بھر
کرتا ہے دست گیر وگرنہ مجھے خمار

اس تنگ نائے دھر سے باہر قدم کو رکھ
ہے آسماں زمیں سے پرے وسعت مزار

مرہم لگا نہ داغ کو جراح مہر کر
یہ داغ تازہ میرے کسی کی ہیں یادگار

چلتا ہوں راہ عشق میں آنکھوں سے مثل اشک
پھوٹیں کہیں یہ آبلے سرسبز ہوویں خار

آتش سے گل کی داغ مگر عشقؔ کھائے تھے
آئی جو پیشوا تجھے لینے کو نو بہار

خواجہ رکن الدین عشق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم