غزل
بات کہنے کی نہیں طاقت شکایت کیا کروں
عشق رخصت دے تو شور حشر اب برپا کروں
کج روی پر اس کی آتا ہے ڈبا دوں اشک سے
دود آہ دل سے اور ہی میں فلک پیدا کروں
دین و ایماں اور دل و جاں رونمائی دے چکے
ہے رہا کیا جو خریدار اس کا ہو سودا کروں
سن کے باتیں عقل کی ایذائیں کیا کیا تو نے دیں
مجھ کو پھر تو دل نہ کہیو جو نہ میں رسوا کروں
اول و آخر کو میرا عشقؔ کافی ہے مجھے
فکر بے جا ہے اگر امروز یا فردا کروں
خواجہ رکن الدین عشق