MOJ E SUKHAN

یہ سوچ بننا ہے کیا تجھ کو کیا بنا ہوا ہے

غزل

یہ سوچ بننا ہے کیا تجھ کو کیا بنا ہوا ہے
خدا کا کیا ہے کہ وہ تو خدا بنا ہوا ہے

دبا سکا نہ صدا اس کی تیری بزم کا شور
خموش رہ کے بھی کوئی صدا بنا ہوا ہے

میں چاہتا ہوں مسیحا کے دل میں بھی رکھ دوں
وہ درد میرے لیے جو دوا بنا ہوا ہے

یہ کار عشق ہے رکھ اپنے انہماک سے کام
نہ دیکھ بگڑا ہوا کیا ہے کیا بنا ہوا ہے

بسی ہوئی ہے مرے عشق سے تری خلوت
ترا جمال مرا آئنا بنا ہوا ہے

تمہاری بزم میں حیرت سے ہے کوئی تصویر
کوئی ادب سے ہے ساکت دیا بنا ہوا ہے

جو چاہئے ہے ہمیں وہ ہمیں میسر ہے
قدم اٹھے ہوئے ہیں راستا بنا ہوا ہے

میر احمد نوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم