MOJ E SUKHAN

پیش زمیں رہوں کہ پس آسماں رہوں

غزل

پیش زمیں رہوں کہ پس آسماں رہوں
رہتا ہوں اپنے ساتھ میں چاہے جہاں رہوں

کیسا جہاں کہاں کا مکاں کون لا مکاں
یعنی اگر کہیں نہ رہوں تو کہاں رہوں

اے عشق میرا ہونا نہ ہونا ہے مجھ تلک
اب میں نشان کھینچوں کہ میں بے نشاں رہوں

کیا ڈھونڈھتا رہوں میں یوں ہی دہر میں ثبات
کیا مرگ ناگہاں کے لیے ناگہاں رہوں

خاکستر ستارہ ہے آئندۂ نمو
بہتر یہی ہے میں کسی جانب رواں رہوں

میر احمد نوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم