MOJ E SUKHAN

زمین بارہا بدلی زماں نہیں بدلا

غزل

زمین بارہا بدلی زماں نہیں بدلا
اسی لیے تو یہ میرا جہاں نہیں بدلا

نہ آرزو کوئی بدلی نہ میری محرومی
بدل گیا ہے رویہ سماں نہیں بدلا

اداسی آج بھی ویسی ہے جیسے پہلے تھی
مکیں بدلتے رہے ہیں مکاں نہیں بدلا

کبھی چراغ کبھی دل جلا کے دیکھ لیا
ذرا سا رنگ تو بدلا دھواں نہیں بدلا

پرندے اب بھی چہکتے ہیں گل مہکتے ہیں
سنا ہے کچھ بھی ابھی تک وہاں نہیں بدلا

دلوں کا درد کسی طور کم نہیں ہوگا
اگر تصور سود و زیاں نہیں بدلا

عبید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم