MOJ E SUKHAN

یہ ذرا سا کچھ اور ایک دم بے حساب سا کچھ

غزل

یہ ذرا سا کچھ اور ایک دم بے حساب سا کچھ
سر شام سینے میں ہانپتا ہے سراب سا کچھ

وہ چمک تھی کیا جو پگھل گئی ہے نواح جاں میں
کہ یہ آنکھ میں کیا ہے شعلۂ زیر آب سا کچھ

کبھی مہرباں آنکھ سے پرکھ اس کو کیا ہے یہ شے
ہمیں کیوں ہے سینے میں اس سبب اضطراب سا کچھ

وہ فضا نہ جانے سوال کرنے کے بعد کیا تھی
کہ ہلے تو تھے لب، ملا ہو شاید جواب سا کچھ

مرے چار جانب یہ کھنچ گئی ہے قنات کیسی
یہ دھواں ہے ختم سفر کا یا ٹوٹے خواب سا کچھ

وہ کہے ذرا کچھ تو دل کو کیا کیا خلل ستائے
کہ نہ جانے اس کی ہے بات میں کیا خراب سا کچھ

نہ یہ خاک کا اجتناب ہی کوئی راستہ دے
نہ اڑان بھرنے دے سر پہ یہ پیچ و تاب سا کچھ

سر شرح و اظہار جانے کیسی ہوا چلی ہے
کہ بکھر گیا ہے سخن سخن انتخاب سا کچھ

یہ بہار بے ساختہ چلی آئی ہے کہاں سے
تن زرد میں کھل اٹھا ہے پیلے گلاب سا کچھ

ارے کیا بتائیں ہوائے امکاں کے کھیل کیا ہیں
کہ دلوں میں بنتا ہے ٹوٹتا ہے حباب سا کچھ

کبھی ایک پل بھی نہ سانس لی کھل کے ہم نے بانیؔ
رہا عمر بھر بسکہ جسم و جاں میں عذاب سا کچھ

راجیند من چند بانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم