MOJ E SUKHAN

مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں

غزل

مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں
جنس تو ہے پہ زلیخا سا خریدار کہاں

فیض ہوتا ہے مکیں پر نہ مکاں پر نازل
ہے وہی طور ولے شعلۂ دیدار کہاں

عیش و راحت کے تلاشی ہیں یہ سارے بے درد
ایک ہم کو ہے یہی فکر کہ آزار کہاں

عشق اگر کیجئے دل کیجئے کس سے خالی
درد و غم کم نہیں اس دور میں غمخوار کہاں

قیدی اس سلسلۂ زلف کے اب کم ہیں یقیںؔ
ہیں دل آزار بہت جان گرفتار کہاں

انعام اللہ خاں یقیں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم