MOJ E SUKHAN

سوز غم سے جگر جل رہا ہے مگر مرا درد نہاں آشکارا نہیں

غزل

سوز غم سے جگر جل رہا ہے مگر مرا درد نہاں آشکارا نہیں
گھٹ کے مرنا گوارا ہے اے چارہ گر راز الفت عیاں ہو گوارا نہیں

شمع جلتی رہی رات ڈھلتی رہی نبض بیمار رک رک کے چلتی رہی
آ کے دم بھر کے مہماں کو اب دیکھ لو اس کے بچنے کا کوئی سہارا نہیں

بچ کے طوفاں کی زد سے کہاں جائے گا اب کہاں تک تلاطم سے ٹکرائے گا
اس سفینہ کو اب ڈوب جانے بھی دو جس کی قسمت میں کوئی کنارا نہیں

ہے چمن تو وہی وہ نشیمن کہاں چند تنکوں کی خاطر چلیں آندھیاں
اب وہ جھونکے نہیں اب وہ طوفان نہیں اب وہ شعلے نہیں وہ شرارا نہیں

خار و گل میں ہے باہم یہ پیکار کیا یہ جفا و وفا میں ہے تکرار کیا
دل کی بازی میں ہے جیت کیا ہار کیا حسن جیتا نہیں عشق ہارا نہیں

جس سے بزم وفا میں چراغاں نہ ہو دل کی ویران بستی گلستاں نہ ہو
یہ تبسم تو کوئی تبسم نہیں یہ اشارا تو کوئی اشارا نہیں

دل سے بگڑی خرد سے خفا ہو گیا دین و دنیا سے نا آشنا ہو گیا
بیٹھے بیٹھے وفاؔ کو یہ کیا ہو گیا اب تمہارا کرم بھی گوارا نہیں

وفا ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم