MOJ E SUKHAN

یہی صدا مجھے اکثر سنائی دیتی ہے

غزل

یہی صدا مجھے اکثر سنائی دیتی ہے
سکون کس کو بتوں کی خدائی دیتی ہے

وہ آدمی جو ہمیشہ مرے خلاف رہا
اسی کی مجھ پہ حکومت دکھائی دیتی ہے

محبتیں ہی سکھاتی ہیں ہر سبق لیکن
بہت سے درس ہمیں بے وفائی دیتی ہے

یہ انگلیاں ہی قلم بن کے چلنے لگتی ہیں
یہ چشم نم ہی مجھے روشنائی دیتی ہے

کسی کے عشق نے یوں دل کو کر دیا روشن
کہ روشنی سی ہر اک سو دکھائی دیتی ہے

سلوک ایک سا کرتی نہیں ہے الفت بھی
ملن کسی کو کسی کو جدائی دیتی ہے

نہیں ہے دور مری روح کے قریب ہے وہ
جھلک اسی کی تو مجھ میں دکھائی دیتی ہے

نہ ایسی دنیا سے امید اے ولاؔ رکھنا
جو نیکیوں کے صلے میں برائی دیتی ہے

ولاء جمال العسیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم