MOJ E SUKHAN

تم نے ہمارا ساتھ دیا تو خود کو ہم پا جائیں گے

غزل

تم نے ہمارا ساتھ دیا تو خود کو ہم پا جائیں گے
ورنہ اپنی ذات سے ہمدم پھر دھوکا کھا جائیں گے

کڑی دھوپ میں ہم لے آئے اپنے کومل گیتوں کو
ان کے پھول سے چہرے دیکھیں دھوپ میں کمھلا جائیں گے

آنکھیں موند کے چلنے والے دھن کے پکے نکلے تو
چلتے چلتے اک دن آخر منزل کو پا جائیں گے

کون ہواؤں کے پر باندھے کون ہمارا رستہ روکے
آگ کا دریا ہوگا تو بھی تیر کے ہم آ جائیں گے

دانائی کے شہر کے باسی پاگل پن کے جنگل میں
جنگل والو آنکھ بچا کر آگ سی بھڑکا جائیں گے

من کی آنکھ کھلے تو سمجھو نور کا زینہ چڑھنا ہے
ورنہ تن کی آنکھ کے شیشے دھوپ میں دھندلا جائیں گے

درد ہوا کا پیچھا کرنا سب کے بس کی بات نہیں
اپنا پیچھا کرتے کرتے دوست بھی اکتا جائیں گے

وشو ناتھ درد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم