MOJ E SUKHAN

ہم نے اپنے آپ سے جب بات کی

غزل

ہم نے اپنے آپ سے جب بات کی
آ گئی رستے میں اک دیوار سی

اپنے دروازے پہ دستک دے کوئی
ایک سناٹے پہ دنیا کھو گئی

کون سے نقطے پہ لا کر توڑتے
عمر رفتہ تیری یادوں کی کڑی

کس کو جاکر ہم بتائیں سانحہ
کھا رہی ہے ہم کو اپنی زندگی

دردؔ اپنا ہم تعارف دیں تو کیا
ہم تو اپنے آپ سے ہیں اجنبی

وشو ناتھ درد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم