MOJ E SUKHAN

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

قافلے میں صبح کے اک شور ہے
یعنی غافل ہم چلے سوتا ہے کیا

سبز ہوتی ہی نہیں یہ سرزمیں
تخم خواہش دل میں تو بوتا ہے کیا

یہ نشان عشق ہیں جاتے نہیں
داغ چھاتی کے عبث دھوتا ہے کیا

غیرت یوسف ہے یہ وقت عزیز
میرؔ اس کو رائیگاں کھوتا ہے کیا

مير تقی میر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم