ممتاز صحافی دانشور و شاعر، محمود شام

پہلا اخبار کاربن پیپر پر شائع کیا ,
ماں کی گود میں بیٹھ کر ہجرت کی,
صحافت اور شاعری ایک دوسرے کو قوت فراہم کرتی ہے
گزشتہ 60 سالوں سے ادب کے افق پر
کبھی شام سہانی، کہیں رنگین شام، کبھی یادوں کی شام،
شام جی سے گفتگو کرنے کے بعد ہی شام کے روپ سے آشنائی ہوئی ہے، محمود شام جیسی ہمہ جہت، پہلو دار،شخصیت کا کھوج لگانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے،، مگر، ،، صحافت اور ادب کے ننھے طالب علم نے انہیں جاننے کی کوشش کی غرض سے انکی رہائش گاہ پر جاکر ملاقات کی تو،،، شام کے کئی رنگ و روپ آشکار ہوے گو کہ پہلے سے واقفیت علمیت تو تھی ہی مگر چند حقائق سے پردہ ہٹا تو مجھے ایسا چہرہ نظر آیا جس کے چہرے پہ تبسم، مسرور کن لہجہ،چہرہ شناس آنکھیں، عجز و انکساری کے پیکر، مضبوط قوت ارادی و حافظہ کے مالک،،، شام جی جسے دنیا محمود شام کے نام سے بھی جانتی ہے۔۔
محمد طارق محمود 1957 تک محمود عزمی (المعروف شام جی،) کی شناخت کی حامل شخصیت 5 فروری 1940 کو بر صغیر پاک و ہند کے شہر پٹیالہ میں صحافتی چراغ روشن رکھنے کے آنکھ کھولی ۔ پیدائش کے سات سال بعد ماں کی گود میں مال گاڑی کے کھلے ہوے ڈبے میں بیٹھ کر پاکستان ہجرت کی، اور جھنگ میں قیام کیا۔ جبکہ 1957 میں صحافتی زندگی کی ابتداء،، ہفت روزہ،، گلستاں،طلباء کے لئے شایع کیا،، جسکی مضمون نگاری و کتابت بھی خود محمود شام کیا کرتے تھے، لکھتے لکھتےاور پڑھتے پڑھتے محمود شام نے اپنا پہلا کلام،، چہرہ چہرہ مری کہانی، شائع کیا،، نویں جماعت میں کاربن پیپر پر پہلا اخبار نکالا، 1962 میں اعلیٰ تعلیم کے لئیے لاہور چلے گئے، 1963 میں نواے وقت گروپ کے ہفت روزہ،، قندیل،،، کے معاون مدیر رہے، 1967 میں جنگ گروپ کے ہفت روزہ،، اخبار جہاں،،میں اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کرایا، 1970 میں کاڈ کو سیازم، آخری رقص، اور، 1972 میں غیر ملکی شعرائے کرام کے منظوم تراجم بھی شائع کیے، علاوہ ازیں محمود شام نے چار سفر نامے،،، لاڑکانہ سے پیکنگ(بجنگ) برطانیہ میں خزاں، بھارت میں بلیک لسٹ، امریکا کیا سوچ رہا ہے، کے عنوان سے لکھے،سیاسی رہنماؤں اور مختلف شخصیات کے انٹرویوز پر مبنی کتب،، رو برو، ون ٹو ون، اور نئی آوازیں بھی شائع کرنے کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں، جبکہ سیاسی ناول،، شب بخیر، کے علاوہ شعری مجموعے نوشتہ دیوار، قربانیوں کا موسم، محلوں میں سرحدیں، شامل ہیں، اور جنگ اخبار میں،، مملکت اے مملکت،،، کے عنوان سے کالم شائع ہو رہے ہیں، جبکہ جولائی 2014 سے باقاعدہ مسلسل انٹر نیشنل ماہنامہ،، اطراف،، کی اشاعت میں موضوعاتی تحریر و مضامین اور معاشرے کے افراد کو درپیش مسائل پر آواز بلند کرنے والے کی حثیت سے نمایاں ہیں۔ محمود شام سچ لکھنے کی پاداش میں 1977 میں گرفتار ہو کر 3ماہ جیل بھی کاٹ چکے ہیں، یقننآ ایک صحافی کو کن چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے؟گزشتہ سات دہائیوں کے دوران اقتدار کی غلام گردشوں میں جنم لینے والی کہانیوں میں صحافت کا کردار کیا رہا اور کیا ہونا چاہیے تھا؟ آزادی صحافت کو دراصل کس سے خطرہ ہے؟ سمیت ان تمام عوامل کو مختلف انداز میں اجاگر کر چکے ہیں گزشتہ 60 سالوں سے محمود شام نے صحافتی ایوانوں میں نثر و کالم نگاری میں بلند مقام حاصلِ تو کیا ہی ہے ،،مگر، انکی شاعری کا اعتراف بھی ملک کے نامور شاعر قتیل شفائی سمیت دیگر شعرائے کرام نے بھی کیا ہے اور انکی نظموں، غزلوں میں طبع آزمائی کو جو مقام دیا وہ مقام آج تک کسی کو حاصل نہ ہوسکا،،، بلکہ روز بروز کلام میں تازگی و شادابی برقرار ہے،اس طویل شعری سفر میں محمود شام نے نئی نئی تراکیب، استعاروں، تشبیہات کے تجربات بھی کیے ہیں،شام جی کو شائید اللہ نے چن لیا ہے،،، بے شک وہ جسے چاھتا ہے چن لیتا ہے،،،، انکی 60 سالہ ادبی زندگی میں جو بھی لمحات گزرے وہ نہ صرف عجز و انکساری کے پیکر نظر آے بلکہ انکے قول و فعل میں کبھی بھی تضاد نظر نہ آسکا، دانشور، شاعر، ادیب سے بڑھ کر ایک مخلص محبت کرنے والی شخصیت و صاحب اخلاق کے روپ میں موجود ہیں اسی وجہ کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے کامیابیوں سے بھی نوازا ہے،
شام جی کہتے ہیں کہ،،،، موجودہ دور میں اگر آپ ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کروگے،،، تو،،،، ٹیکنالوجی آپ کو استعمال کرے گی،،،، اسی کے پیش نطر،، فیس بک پر براہ راست پروگرام شام جی کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں،
محمود شام نے کہا کہ اکثر مصنف کہتے ہیں کہ کتابیں فروخت نہیں ہوتیں،،،،تو جناب،،، ،،معیاری کتابیں آج بھی مہنگے داموں فروخت ہورہی ہیں،
تحریر فیاض الحسن فیاض