MOJ E SUKHAN

یہ میرا شیشۂ دل بے مثال ہے پیارے

غزل

یہ میرا شیشۂ دل بے مثال ہے پیارے
دکھائی دے ہے کہاں جتنا بال ہے پیارے

ہر ایک بات کو لکھنا محال ہے پیارے
خود آ کے دیکھ لو جو دل کا حال ہے پیارے

جہاں سے چاہا ہمیں لخت لخت کر ڈالا
بنا چھری کے یہ کیسا کمال ہے پیارے

مٹا دو حسن گلستاں کو شوخ پھولوں کو
ہو لب کشا کوئی کس کی مجال ہے پیارے

جھلس کے رہ گئے گلشن میں آشیاں کتنے
تری بہار میں کتنا جلال ہے پیارے

کسی کا خون عدالت میں پھر ہوا ہوگا
ستون دار و رسن لال لال ہے پیارے

کہاں کسی کی بھی صورت دکھائی دیتی ہے
ہر آئنے میں تو تیرا جمال ہے پیارے

ہر ایک سانس ہے انفاس باز پس کی طرح
نظام دم میں دما دم وبال ہے پیارے

وہ آ کے لوٹ گئے میری ڈیوڑھی سے سحرؔ
سکون دل کے لئے نیک فال ہے پیارے

بدیع الزمان سحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم