MOJ E SUKHAN

کون جانے کہ تخیل میں ہیں پیکر کتنے

غزل

کون جانے کہ تخیل میں ہیں پیکر کتنے
بت تراشے گا ابھی اور یہ آذر کتنے

ہم نے اک قطرہ کا احسان گوارا نہ کیا
پی گئے لوگ خدا جانے سمندر کتنے

یاد آتے ہی تری آئے خیالوں کے ہجوم
ایک پیکر سے تراشے گئے پیکر کتنے

ہو وہ مذہب کا لبادہ کہ سیاست کا لباس
لوگ پھرتے ہیں یہاں بھیس بدل کر کتنے

شہر پھولوں کا جسے ہم نے سمجھ رکھا تھا
ہم پہ پھینکے گئے اس شہر میں پتھر کتنے

جو کچھ ان آنکھوں نے دیکھا ہے وہی کیا کم تھا
اور دیکھیں گے ابھی دیکھیے منظر کتنے

ایک ساقی کے نہ ہونے سے ہے ماحول اداس
آج توڑے گئے میخانے میں ساغر کتنے

بجلیاں گرتیں چمن پر تو کوئی بات نہ تھی
آتش گل نے جلائے ہیں یہاں گھر کتنے

دل وہ قطرہ ہے کہ ہستی نہیں جس کی محدود
اسی قطرے میں ہیں پوشیدہ سمندر کتنے

ایک تم ہی نہیں دنیائے ادب میں جوہرؔ
ہیں اسی بحر میں کیا جانئے گوہر کتنے

چندر پرکاش جوہر بجنوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم