غزل
عشق رسم و رواج کیا سمجھے
دل کی باتیں سماج کیا سمجھے
جو ادا ہی ادا ہو سر تا پا
وہ کسی کا مزاج کیا سمجھے
کیا سمجھتا ہے حال ماضی کو
کل کی باتوں کو آج کیا سمجھے
تشنگی ہی شراب کو جانے
بھوک کیا ہے اناج کیا سمجھے
ضبط کیا جانے موج مستی کو
بے خودی لوک لاج کیا سمجھے
کیا سمجھتے ہیں عرش کو طائر
شاہ بھی تخت و تاج کیا سمجھے
تو ہے پروازؔ ادنیٰ سا شاعر
درد دل کا علاج کیا سمجھے
درشن دیال پرواز