MOJ E SUKHAN

جو لب پہ نہ لاؤں وہی شعروں میں کہوں میں

غزل

جو لب پہ نہ لاؤں وہی شعروں میں کہوں میں
یوں آئینۂ حسرت گفتار بنوں میں

آئینۂ آغاز میں دیکھوں رخ انجام
کلیوں کے چٹکنے کی صدا سے بھی ڈروں میں

میرے لیے خلوت بھی ہے ہنگامے کی صورت
وہ شور تمنا ہے کہ کس کس کو سنوں میں

ٹھہرو تو یہ گھر کیا دل و جاں بھی ہیں تمہارے
جاتے ہو تو کیوں راہ کی دیوار بنوں میں

ہر گام نگاہوں سے لپٹ اٹھتے ہیں شعلے
اور دل کی یہی ضد ہے اسی راہ چلوں میں

ہر ایک نظر آبلہ پا دیکھ رہا ہوں
بستے ہوئے شہروں کو بھی صحرا ہی کہوں میں

کوئی بھی سر دار چراغاں نہیں کرتا
اور سب کی تمنا ہے کہ منصور بنوں میں

نقاشیٔ تخیل سے گھبرا سا گیا ہوں
کب تک یوں ہی خوابوں کے جزیروں میں رہوں میں

جو لے گیا جان و جگر و دل سر راہے
وہ گھر مرے آ جائے تو کیا نذر کروں میں

مجھ کو ہے جنوں زمزمۂ برگ خزاں کا
پت جھڑ کے لئے گوش بر آواز رہوں میں

صادقؔ مجھے منظور نہیں ان کی نمائش
ہر چند کہ زخموں کا خریدار تو ہوں میں

صادق نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم