MOJ E SUKHAN

دشمنی کی اس ہوا کو تیز ہونا چاہئے

غزل

دشمنی کی اس ہوا کو تیز ہونا چاہئے
اس کی کشتی کو سر ساحل ڈبونا چاہئے

چھین کر ساری امیدیں مجھ سے وہ کہتا ہے اب
کشت دل میں آرزو کا بیج بونا چاہئے

اس سمندر کی کثافت آنکھ میں چبھنے لگی
اس کا چہرہ اور ہی پانی سے دھونا چاہئے

سونپ جائیں ان درختوں کو نشانی نام کی
ہم کبھی تھے اگلی رت کو علم ہونا چاہئے

یہ بھی کوئی تک ہوئی کہ کچھ ہوا تو رو پڑے
شخصیت کا رنگ فکریؔ یوں نہ کھونا چاہئے

پرکاش فکری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم