MOJ E SUKHAN

کچھ تو دنیا سے کما لے جائیے

غزل

کچھ تو دنیا سے کما لے جائیے
ہم فقیروں کی دعا لے جائیے

ہو سکے تو اس کی چوکھٹ کے لیے
سجدۂ دل آشنا لے جائیے

یہ بھی کیا کم ہے کہ اس کے شہر میں
صرف زخموں کی ردا لے جائیے

اب چراغوں سے دھواں اٹھنے لگا
اب چراغوں کو اٹھا لے جائیے

صرف امید وفا پر عمر بھر
آستیں میں سانپ پالے جائیے

تاکہ میں خود سے بھی پوشیدہ رہوں
پردہ آئینے پہ ڈالے جائیے

اس سے ظالم کے بڑھیں گے حوصلے
یوں نہ زخموں کو چھپا لے جائیے

اور تو کچھ بھی نہیں دل کے سوا
جو بھی ہے اچھا برا لے جائیے

تابش مہدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم