MOJ E SUKHAN

نام ہوا بدنام کسی کا

غزل

نام ہوا بدنام کسی کا
نام کسی کا کام کسی کا

جب سے کسی پر دل آیا ہے
ختم ہوا آرام کسی کا

حسن فریب عشق نہ پوچھو
صید کسی کا دام کسی کا

منہ میں مصری گھول رہا ہوں
ہے جو زباں پر نام کسی کا

تیرے قرباں اچھے ساقی
پھیر نہ خالی جام کسی کا

منزل حق میں تیری انا کیوں
بھول نہ جا انجام کسی کا

راہ وفا آسان نہیں ہے
پہلے دامن تھام کسی کا

میرے ہمیشہ کام آیا ہے
ہر مشکل میں نام کسی کا

وہ بھی کوئی بندہ جو کاملؔ
صبح کسی کا شام کسی کا

کامل شطاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم