MOJ E SUKHAN

تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے

غزل

تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے
دیکھو نہ تماشہ مجھے دیوانہ بنا کے

محروم کرم ہو گئے کیوں ہوش میں آکے
بھوکے تھے ابھی ہم ترے دامن کی ہوا کے

تا نگۂ شوق کی خاطر ہو جو پردہ
فرمائے دیکھوں کسے پھر اس کو ہٹا کے

نا قابل ترمیم ہے دستور محبت
احکام بدلتے نہیں قانون وفا کے

کھلنا ہے پس پرسہ حقیقت کو بھی اک دن
کھیلو گے کہاں تک مجھے افسانہ بنا کے

مجنوں ہی کے جلووں کا تماشہ نظر آیا
دیکھا جو نقاب رخ لیلا کو ہٹا کے

کم ظرف نہیں ہوں کہ بہک جاؤں نظر سے
اک تجربہ کر لیجئے یہ مے بھی پلا کے

ہر چند ہے داغوں سے گلستاں مرا سینہ
تم پھر بھی تو معصوم ہو گل اتنے کھلا کے

ہیں میری نگاہوں پہ ہزاروں کی نگاہیں
دیکھوں تمہیں کس کس کی نگاہوں سے بچا کے

ہر چیز مشیت کا نشانہ ہیں وہ کاملؔ
سختی سے جو پابند ہیں آداب وفا کے

کامل شطاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم