MOJ E SUKHAN

یاد کرنے کے زمانے سے بہت آگے ہیں

غزل

یاد کرنے کے زمانے سے بہت آگے ہیں
آج ہم اپنے ٹھکانے سے بہت آگے ہیں

کوئی آ کے ہمیں ڈھونڈے گا تو کھو جائے گا
ہم نئے غم میں پرانے سے بہت آگے ہیں

جسم باقی ہے مگر جاں کو مٹانے والے
روح میں زخم نشانے سے بہت آگے ہیں

اس قدر خوش ہیں کہ ہم خواب فراموشی میں
جاگ جانے کے بہانے سے بہت آگے ہیں

جو ہمیں پا کے بھی کھونے سے بہت پیچھے تھا
ہم اسے کھو کے بھی پانے سے بہت آگے ہیں

ذیشان ساحل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم