MOJ E SUKHAN

زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے

غزل

زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے
میری ویران پلکوں پہ دن ڈھلتے ہی کچھ ستارے مگر جگمگاتے رہے

لٹ گئی زندگی بجھ گئے دیپ بھی دور تک پھر نہ باقی رہی روشنی
اس اندھیرے میں بھی ہم تری یاد سے اپنی ویران محفل سجاتے رہے

تم سے بچھڑے ہوئے ایک مدت ہوئی دن گزرتا رہا وقت ٹلتا رہا
شام آتی رہی دل دھڑکتا رہا ہم چراغ محبت جلاتے رہے

ایک تم ہی نہ تھے ورنہ ہر چیز تھی چاند کے ساتھ تھی رات کی دل کشی
ساز بجتا رہا لے ابھرتی رہی رقص ہوتا رہا لوگ گاتے رہے

یوں نہ کوئی جیے جس طرح ہم جیے زندگی بھر کسی کو نہ اپنا سکے
بے وفائی مرا دل جلاتی رہی پیار کے نام پر چوٹ کھاتے رہے

شوکت پردیسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم