MOJ E SUKHAN

اندھیری رات نفس کے دیے جلائے ہیں

غزل

اندھیری رات نفس کے دیے جلائے ہیں
بنانے والوں نے خورشید تک بنائے ہیں

بس اس سے پہلے کہ دریائے خوں میں جا ڈوبیں
ہیں خوش نصیب پسینے میں جو نہائے ہیں

ہر ایک حسن و لطافت کی انتہا ہے حیات
گل و شراب و بہشت و صنم کنائے ہیں

میں جاگتا ہوں کہ سوتا ہوں خواب دیکھتا ہوں
زمین تپتی ہے کچھ بادلوں کے سائے ہیں

سنور گئے ہیں جنہوں نے جہاں سنوارا ہے
چمک رہے ہیں وہ چہرے کہ گل کھلائے ہیں

اسی کی بانگ پہ بیدار ہو کے ذبح کیا
نوائے مرغ نے کیا کیا اثر دکھائے ہیں

کسی حقیر سے شیشے کو بھی نہ ٹھیس لگے
اس احتیاط پہ بھی کتنے دل دکھائے ہیں

سعید الظفر چغتائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم