غزل
ہم کفر سے واقف ہیں نہ اسلام سے واقف
ہیں مذہبی پرخاش کے انجام سے واقف
تا عمر رہے ہیں جو مئے و جام سے واقف
ہو پائے نہ وہ گردش ایام سے واقف
تنویر سحر جن کی نگاہوں میں بسی ہو
کب ہوتے ہیں وہ تیرگئ شام سے واقف
منزل پہ پہنچنا ہمیں دشوار نہیں ہے
ہم ہیں بخدا اپنے ہر اک گام سے واقف
پیکر میں ہر اک شخص کے پرتو ہے اسی کا
ہر شخص ہے اس ہستیٔ بے نام سے واقف
تدبیر کی خوبی اسے کہئے کہ وفا میں
ہم ہو نہ سکے حسرت ناکام سے واقف
ہو پائے نہ وہ عظمت ہستی سے شناسا
جو ہو نہ سکے ہیں غم و آلام سے واقف
وجدان پہ اک برق سی لہرائی تھی گوہرؔ
ہو پائے ہمیں حیف نہ الہام سے واقف
گلدیپ گوہر