MOJ E SUKHAN

جو فرض عائد ہوا ہے ہم پر اسے خوشی سے ادا کریں گے

غزل

جو فرض عائد ہوا ہے ہم پر اسے خوشی سے ادا کریں گے
ہمارا شیوہ یہی رہا ہے جفا کے بدلے وفا کریں گے

شکستہ کشتی مہیب طوفان اور ساحل نظر سے اوجھل
عذاب کتنے ہی آئیں ہم پہ نہ منت ناخدا کریں گے

رسائی کیسے وفا کی منزل پہ ہوگی یہ راز ہم سے پوچھو
جہاں سفر ختم سب کا ہوگا وہیں سے ہم ابتدا کریں گے

خوشی کے جھولے ہیں جھولنے والے کیا سمجھ پائیں زندگی کو
یہ راز ان پر کھلے گا جس دم وہ دل کو غم آشنا کریں گے

شجر ہے بے برگ کلیاں روندی ہوئی گل و لالہ ہیں فسردہ
یہی ہے منظر بہار کا تو چمن میں ہم جا کے کیا کریں گے

رہے ہیں ذات خدا سے منکر گناہ تسلیم ہے مگر اب
حیات کی سرزنش سے ڈر کر بلند دست دعا کریں گے

ازل سے دستور ہے یہ قائم نہ اس میں ترمیم ہو سکے گی
چراغ ہائے حیات گوہرؔ جلا کریں گے بجھا کریں گے

کلدیپ گوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم