MOJ E SUKHAN

یک دو جام اور بھی دے تو ساقی

غزل

یک دو جام اور بھی دے تو ساقی
نہ رہے دل میں آرزو ساقی

میری تسکیں نہ ہوگی ساغر سے
منہ سے میرے لگا سبو ساقی

رات و دن مے کشوں کو رہتی ہے
تیری ہی یاد و جستجو ساقیمرزا

رند مفلس کو دے ہے زیاد شراب
بھائی مجھ کو تری یہ خو ساقی

آہ تجھ بن ہیں زار و نالاں ہم
بھولی مستی کی ہاو ہو ساقی

شیشۂ مے کی طرح سے ہم آج
رکھتے ہیں گریہ در گلو ساقی

کسی کے آگے مثل ساغر ہم
لاتے ہیں دست آرزو ساقی

لاتے ہیں مثل شیشۂ بادہ
تیرے ہی آگے سرفرو ساقی

رو نہیں اس کو بزم مستاں میں
جس کے تئیں تو نہ دیوے رو ساقی

دے جہاں دارؔ کو وہ مے جس کا
ہووے گل کا سا رنگ و بو ساقی

مرزا جواں بخت جہاں دار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم