غزل
رہے سنگین رشتوں کے مسائل
کبھی ان کےکبھی اپنے مسائل
ملی دستار جس دن آدمی کو
ملے دستار سےپہلے مسائل
حقیقت میں یہی اک مسئلہ ہے
کہ جیسا آدمی ویسے مسائل
سہارا مجھ کو تنہائ اگر دے
میں تنہا حل کروں سب کے مسائل
اگر مقتل میں چلتا سر جھکا کر
تو کتنے عام ہو جاتے مسائل
خدا رکھے تمہیں فرہاد و مجنوں
غزلخواں ہیں محبت کے مسائل
مسافت عشق کی طے کر رہا ہوں
میں اپنے سامنے رکھ کے مسائل
میں کیا الجھا دروبست نوا میں
الجھ کر رہ گئے میرے مسائل
کہاں تنہا ہوں میں عباس حیدر
مرے ہمراہ ہیں میرے مسائل
عباس حیدر زیدی