MOJ E SUKHAN

 رہے سنگین رشتوں کے مسائل

غزل

 رہے سنگین رشتوں کے مسائل
کبھی ان کےکبھی اپنے مسائل

ملی دستار جس دن آدمی کو
ملے دستار سےپہلے مسائل

حقیقت میں یہی اک مسئلہ ہے
کہ جیسا آدمی ویسے مسائل

سہارا مجھ کو تنہائ اگر دے
میں تنہا حل کروں سب کے مسائل

اگر مقتل میں چلتا سر جھکا کر
تو کتنے عام ہو جاتے مسائل

خدا رکھے تمہیں فرہاد و مجنوں
غزلخواں ہیں محبت کے مسائل

مسافت عشق کی طے کر رہا ہوں
میں اپنے سامنے رکھ کے مسائل

میں کیا الجھا دروبست نوا میں
الجھ کر رہ گئے میرے مسائل

کہاں تنہا ہوں میں عباس حیدر
مرے ہمراہ ہیں میرے مسائل

عباس حیدر زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم