MOJ E SUKHAN

ہیں ریگ زار وقت پہ سارے نشاں کہاں

غزل

ہیں ریگ زار وقت پہ سارے نشاں کہاں
کیا جانے زندگی کا گیا کارواں کہاں

آرام لینے دیتا ہے دور زماں کہاں
ٹھہرے جو راہ میں تو رکے کارواں کہاں

بچتا ہے باڑھ باندھے سے بھی گلستاں کہاں
رکتی ہے روکنے سے بھی آتی خزاں کہاں

زنداں کہاں سلگتا ہوا آشیاں کہاں
پہنچا سونامی لے کے کہاں سے دھواں کہاں

ہم نے تمہیں کیا ہے غم دل بیاں کہاں
دنیا مگر سمجھتی ہے دل کی زباں کہاں

ہے فخر کی یہ بات کہ وہ ہم کو آزمائیں
ورنہ ہر اک کا ہوتا ہے یوں امتحاں کہاں

دنیا میں آدمی کو سکوں کی تلاش تھی
دیوانہ وار ڈھونڈھا ہے اس کو کہاں کہاں

ہم اپنے ہی وجود کے صحرا میں کھو گئے
آخر تلاش کرتے کسی کا نشاں کہاں

اپنی بساط بھر تو اڑا آدمی مگر
یہ ایک مشت خاک کہاں آسماں کہاں

جس میں لبوں کے ساتھ گم آہنگ دل بھی ہو
انسان ہونے پاتا ہے یوں شادماں کہاں

کوئی نہ ہو تو رہتی ہے پرچھائیں اپنے ساتھ
سورج کی روشنی میں ہیں تنہائیاں کہاں

ہوتا ہے دوستوں ہی سے آرام جاں نصیب
سب کو مگر نصیب یہ آرام جاں کہاں

جانا تھا روح کو تو بدن سے نکل گئی
سانسیں الجھ الجھ کے یہ بولیں کہاں کہاں

جینے کی ذمہ داریاں کیوں ہم نے کیں قبول
اب پھینک آئیں جا کے یہ بار گراں کہاں

یارو مجھے اندھیرے میں تم چھوڑ تو گئے
مجھ سے چھپا گئے مری پرچھائیاں کہاں

جب تیرگی میں جسموں کی پہچان ہے محال
پیکر کو اپنے ڈھونڈھیں گی پرچھائیاں کہاں

جس میں سکوں ہو غم کی رسائی جہاں نہ ہو
ایسی کوئی زمین کہاں آسماں کہاں

تاراجی چمن کا نظارہ تو دیکھ جاؤ
پھر دیکھنے کو پاؤ گے ایسا سماں کہاں

قربانی دینے والے تو برباد ہو گئے
قربانیاں ہوئی ہیں مگر رائیگاں کہاں

جو ایک دوسرے کی حقیقت چھپا سکے
ایسا حجاب ان کے مرے درمیاں کہاں

کیوں استوار تم نے ازل میں کیا اسے
اب ٹوٹتا ہے رابطۂ جسم و جاں کہاں

کتنی ہی وارداتیں بیاں ہو نہیں سکیں
پوری ہوئی ہے دل کی ابھی داستاں کہاں

ہر دور میں لگے ہوئے تنگئ دل کے قفل
ہوگا غریب شہر کوئی میہماں کہاں

تم سامنے ہو اور میں گم اپنے آپ میں
پہنچا دیا یہ تم نے مجھے ناگہاں کہاں

کہہ لیں سروشؔ کوئی غزل اک نشست میں
دھارا اب اپنی فکر کا ایسا رواں کہاں

محمود سروش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم