MOJ E SUKHAN

[wpdts-date-time]

چونکانے والا شاعر سہیل اقبال تحریر صبیحہ سنبل علی گڑھ

چونکانے والا شاعر سہیل اقبال

 

تحریر صبیحہ سنبل علی گڑھ ہندوستان

،سمندر میں دھول، جی ہاں یہ شعری مجموعہ کا عنوان ہے جو میرے اس جملے کی سند بھی ہے یعنی چونکانے والا شاعر۔
؀خبر ملی ہے مجھے آج اس نے یاد کیا
یہ آج کیسے سمندر میں دھول اڑنے لگی
میرے ہاتھ میں سہیلؔ اقبال کا مجموعہ ہے اور مسرت کی بات یہ ہےکہ اس کتاب کی پہلی کاپی میرے ہاتھ میں ہےجب کہ شاعر خود اس خوشی سے محروم رہا چونکہ کتاب ہند وستان میں شائع ہوئی اور وہ ریاض سعودی عرب میں قیام پذیر ہیں۔ سہیل اقبال صاحب کو میں آن لائن ہونے والے مشاعروں میں سنتی رہی ہوں اور کئی آن لائن طرحی مشاعروں میں بھی شرکت رہی ہے وہیں سے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ سہیل اقبال اپنے اشعار کے ذریعہ سامعین کو چوکنے پر مجبور کردیتے ہیں انکے شعر کا مصرعِ اولٰی سنکر سامع غور کرہی رہا ہوتا ہے کہ شاعر اب یہ کہےگا مگر جیسے ہی مصرعِ ثانی اس کی سماعتوں سے ٹکراتا ہے وہ چونکے بغیر نہیں رہتا سہیل اقبال کا یہی منفرد اندازِ بیاں ان کی شاعری میں تازگی کا احساس کراتا ہے۔ شاعری وہ صنفِ سخن ہے کہ جس کے ذریعہ شاعر اپنے جزبات واحساسات کو نئے نئے اندازسے خوبصورت الفاظ کے پیراہن میں ڈھال کر پیش کرتا ہے اگر شاعری میں نیاپن نہ ہو اور شاعر دوسروں کی کہی باتوں کو توڑ مروڑکر اپنے اشعار میں دہراتا رہے تو شاعری نقّا لی بن جاتی ہےاور بے مول ہوجاتی ہے جیسا کہ موجودہ عہد میں یہ بات بدرجہ اتم نظر آتی ہے۔ شاعری وہ صنفِ سخن ہے اور خاص کر غزل جس کےذریعے شاعر پوری تاریخ اور ہر عہد کے اہم ترین واقعات کو اشاروں کناؤں تشبیہات واستعارات کی مدد سے ایک شعر میں بیان کردیتا ہے اسی کو کہتے ہیں سمندر کو کوزہ میں بند کرنا
سہیل اقبال کی شاعری پڑھ کر یہ احساس ہوجاتا ہے کہ ان کی شاعری میں تنوع ہے۔ عام سی بات کو ایک خاص ڈھنگ سےپیش کرنا شاعر کی شاعری کا کمال کہلاتا ہے اور سہیل اقبال نے اپنے یہاں یہ کردکھایا ہے۔ ان کے اشعار پڑھنے کے بعد شدت سے اس بات کابھی اندازہ ہوتا ہے کہ ہر قدم وہ نئے کی تلاش میں کوشاں ہیں۔ اور یہی تلاش ان کے فن کو بہت آگے لے جائے گی ان کا پہلا مجموعہ: صحرا میں شام” منظرِ عام پر پذیرائی حاصل کرچکا ہے امید کرتی ہوں اس مجموعے کو بھی خاطر خواہ پذیرائی حاصل ہوگی۔ ابتدا حمد سے ہوئی ہے پانچ پانچ اشعار پر مشتمل دو حمد ہیں جو بہت خوب ہیں اس میں بھی انکا انفرادی رنگ بدرجہ اتم نظر آتاہے ملاحظہ فرمائیں
؀
تیری ہی ذاتِ کل پہ مرا انحصار ہے
تو میرا رب ہے تو مرا پرور دگار ہے
ہر جلوۂِ حیات میں تو ہی ہے جلوہ گر
تو پوری کائنات کا منظر نگار ہے
اس میں منظر نگاربہت خوب ہے ایک اور شعر اسی حمد سے جو نہایت عاجزی سے سادہ انداز میں کہا گیا ہے وہی سادگی جو خدا کو بہت پسند ہے۔
؀
تیری نوازشوں سے مرے گھر میں روشنی
تیرے کرم سے مولا مرا روزگار ہے۔
اب کچھ نعت کے اشعار دیکھیں۔
؀
یہیں پہ رحمتِ مولا کے گل پرستے ہیں
وہ دیکھو گنبدِ خضرا ہے تم درود پڑھو
دکھوں کا ذکر میں جب بھی کسی سے کرتا ہوں
وہ مجھ سے برملا کہتا ہے تم درود پڑھو۔
کہتے ہیں کی شاعری میں اگر رومانیت نہ ہو تو کچھ کمی سی محسوس ہوتی ہے۔ اردو ادب میں رومانیت کا اظہار نمایاں رہاہے یوں تو رومانیت Romanticism کی ادبی سقافتی تحریک اٹھّارویں صدی کے آخیر میں یو روپ میں شروع ہوئی۔ موسیقی میں رومانیت کا اظہار جزبات واحساسات کے ذریعہ ہوتا ہے۔ مصوری میں رومانیت کا اظہار رنگوں کے ذریعے فطرت کی خوبصورتی اور جزبات نگاری سے ہوتا ہے اردو ادب میں یہ رجحان بہت نمایاں ہےجس میں جزبات ،تخیل اور انفرادیت کی عکاسی کی جاتی ہے۔ بلا شبہ سہیل اقبال کی شاعری کو منفرد پیرائے میں رکھّا جاسکتا ہے یہ بات ان کے چند اشعار سے واضح ہوسکتی ہے۔
؀
غریبِ شہر کو عزت ومان کب دیگا
توبے زبان کو مولا زبان کب دیگا
ہمی رہے ہیں ہمیشہ سے ظالموں کا ہدف
ہمارے ہاتھ میں تیر و کمان کب دیگا
یہ بھی دیکھیں۔
بلندی سے گرانا چاہتے ہیں
جو مجھ کو والہانا چاہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترےخلاف ذرا بولنے کا یارا ہو
پھر اس کے بعد بھلے کتنا ہی خسارا ہو
ترے نثار مجھے تونے مڑ کے دیکھ لیا
میں چاہتاہوں ذرا یہ کرم دوبارہ ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔
خوش ہوا میرے خریدار نظر تو آیے
آپ مجھ کو سرِ بازار نظر تو آیے
ہر اک دریچے ہر اک در میں دھول اڑنے لگی
تمہارے جاتے ہی اس کھر میں دھول اڑنے لگی
ہر ایک شاخ کو اس کا ملال ہوتا ہے
کسی پرندے کا جب انتقال ہوتا ہے
تمام گھر ہے پریشاں مری علالت پر
کمانے والے کا کتنا خیال ہوتا ہے۔
اشعار تو بہت ہیں طوالت کے ڈر سے بات ختم کرتی ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اس کتاب کی خوب پذیرائی ہو قارئین ضرور اس شاعری سے حظ اٹھائیں۔
اس شعر پر بات تمام کرتی ہوں جو ایک پیغام بھی ہے۔
اگر چہ دیکھنے میں کم بہت ہیں۔
مگر ہم ایک ہوں تو ہم، بہت ہیں
صبیحہ سنبؔل
علی گڑھ۔
Facebook
Twitter
WhatsApp

ادب سے متعلق نئے مضامین

ایک طوائف کا خط

کرشن چندر مجھے امید ہے کہ اس سے پہلے آپ کو کسی طوائف کا خط نہ ملا ہو گا۔ یہ