MOJ E SUKHAN

جو بات شرط وصال ٹھہری وہی ہے اب وجہ بد گمانی

جو بات شرط وصال ٹھہری وہی ہے اب وجہ بد گمانی

ادھر ہے اس بات پر خموشی ادھر ہے پہلی سے بے زبانی

۔

کسی ستارے سے کیا شکایت کہ رات سب کچھ بجھا ہوا تھا

فسردگی لکھ رہی تھی دل پر شکستگی کی نئی کہانی

۔

عجیب آشوب وضع داری ہمارے اعصاب پر ہے طاری

لبوں پہ ترتیب خوش کلامی دلوں میں تنظیم نوحہ خوانی

۔

ہمارے لہجے میں یہ توازن بڑی صعوبت کے بعد آیا

کئی مزاجوں کے دشت دیکھے کئی رویوں کی خاک چھانی

عزم بہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم