MOJ E SUKHAN

دیکھ ہم کو نئے حوالوں میں

دیکھ ہم کو نئے حوالوں میں
وقت ضائع نہ کر سوالوں میں

ہم کہ سقراط کے مقلد ہیں
زہر پیتے رہے پیالوں میں

ہم وہ سادہ مزاج مومن ہیں
آتے رہتے ہیں تیری چالوں میں

کیا عجب واقعہ ہوا اب کے
بھیڑیے پھنس گئے غزالوں میں

چاند اُترا نہ گھر کے آنگن میں
چاندی اُتری کسی کے بالوں میں

آپ کیا ڈھونڈنے چلے آئے
ناز جیسے تباہ حالوں میں

ناز مظفر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم