MOJ E SUKHAN

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے

اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

.

ملے ہیں یوں تو بہت آؤ اب ملیں یوں بھی

کہ روح گرمیٔ انفاس سے پگھل جائے

.

محبتوں میں عجب ہے دلوں کو دھڑکا سا

کہ جانے کون کہاں راستہ بدل جائے

.

زہے وہ دل جو تمنائے تازہ تر میں رہے

خوشا وہ عمر جو خوابوں ہی میں بہل جائے

.

میں وہ چراغ سر رہ گزار دنیا ہوں

جو اپنی ذات کی تنہائیوں میں جل جائے

.

ہر ایک لحظہ یہی آرزو یہی حسرت

جو آگ دل میں ہے وہ شعر میں بھی ڈھل جائے

عبید اللہ علیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم