زندگی بھر میں سرگرانی سے
ایسے کھیلا ہوں جیسے پانی سے
۔
کتنے ہی غم نکھرنے لگتے ہیں
ایک لمحے کی شادمانی سے
۔
ہر کہانی مری کہانی تھی
جی نہ بہلا کسی کہانی سے
۔
صرف وقتی سکون ملتا ہے
پیاس بجھتی نہیں ہے پانی سے
۔
مجھ کو کیا کیا نہ دکھ ملے ساقیؔ
میرے اپنوں کی مہربانی سے
ساقی امروہوی