MOJ E SUKHAN

تمہارے قرب کے لمحے گلاب لمحے تھے

Tumharay Qurb Kay lamhay gulab lamhay they

غزل

تمہارے قرب کے لمحے گلاب لمحے تھے
جو چکھ کے دیکھا سبھی تو شراب لمحے تھے

تمہارا ہاتھ تھا جب ہاتھ میں صنم اس پل
نجانے کتنے حسیں ہم رکاب لمحے تھے

محل تھے خوابوں کے ہر اک طرف حسیں جاناں
بڑے بلند وہ عالی جناب لمحے تھے

وہ سرمئی گھنے بادل تھے پاس ہی میرے
نظر میں بس گئے تھے جو وہ خواب لمحے تھے

بھٹک بھٹک کے نظر لوٹ آئی جب واپس
وہ کہر سے بھرے دن اور سراب لمحے تھے

صنم قسم تمہیں دی دیر مت ذرا کرنا
کہ چھوٹے دن تھے مگر بے حساب لمحے تھے

وہ روشنی بھری آنکھیں کشش سے پر فہمی
چراغ دن تھے سبھی آفتاب لمحے تھے

فریدہ عالم فہمی

Fareeda Aalam Fehmi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم