MOJ E SUKHAN

پڑھ رہا ہوں اپنے بارے میں ترا لکھا ہوا

پڑھ رہا ہوں اپنے بارے میں ترا لکھا ہوا
تیری باتوں سے ترے باطن کا اندازہ ہوا

دھیرے دھیرے اس کے سارے خال و خد مجھ پر کھلے
جب وہ میری خلوتوں میں انجمن آرا ہوا

میری آوارہ مزاجی میری مشکل بن گئی
اعتبارِ عشق ٹوٹا تو میں شرمندہ ہوا

میں نے اپنے روز و شب اس کے حوالے کر دئیے
تب وہ میرا ہم سفر بننے پہ آمادہ ہوا

چاہتوں میں خوش مزاجی لازمی ٹھہری تو میں
مسکراتا ہوں مگر اندر سے ہوں ٹوٹا ہوا

چہچہاتی زندگی مصروف رکھتی تھی مجھے
جب پرندے اڑ گئے تو گھر میں سناٹا ہوا

آئنہ خانے میں جب میری نمائش کی گئی
آئنہ میرے مقابل روز صف آرا ہوا

کوٹہ سسٹم سے گزارا جب ہماری قوم کو
ہم کو اپنے حال و مستقبل کا اندازہ ہوا

آپ فرزندِ زمیں ہیں ہم ہیں مشکل میں نثار
گھر ہوا تقسیم تو یہ مسئلہ پیدا ہوا

ڈاکٹر نثار احمد نثار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم