MOJ E SUKHAN

بنتا نہیں صنم کوئی پتھر ہوۓ بغیر

بنتا نہیں صنم کوئی پتھر ہوۓ بغیر
جچتی نہیں خوشی بھی کوئی غم سہے بغیر


قسمت کے کھیل ہیں یہ ستاروں کی چال ہے
مل جاتے ہیں جو لوگ دلوں کے ملے بغیر


پھیری تھیں اس نے بزم میں نظریں کچھ اس طرح
سب کچھ ہی جیسے کہہ گیا کچھ بھی کہے بغیر


الفاظ اس کے تھے یا وہ لہجے کی کاٹ تھی
ٹوٹا تھا دل کا آئینہ ٹھوکر لگے بغیر


بت کی طرح وہ رہتے ہیں نظروں کے سامنے
رہتا نہیں ہے دل انہیں پتھر کہے بغیر


دن گن رہے ہیں زیست کے فرقت میں جان جاں
کٹتی نہیں ہے رات بھی تارے گنے بغیر


سورج یہ تیرے حسن کا ڈھل جائے گا کبھی
کٹ جاۓ گی یہ عمر بھی میری ترے بغیر


ہوتے ہیں ایسے لوگ بھی اکثر ہمارے ساتھ
ملتے نہیں سعید جو مطلب لئے بغیر

احمد سعید خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم