MOJ E SUKHAN

اجنبی تاریکیوں پر چھا گئی

اجنبی تاریکیوں پر چھا گئی
روشنی مٹی کا گھر چمکا گئی


وہ چکوریں جھاڑیوں میں چھپ گئیں
زخم جن کے چاندنی گہرا گئی


تیرنے جب آ گیا کچا گھڑا
سرد دریا میں روانی آ گئی


ساری دستاروں پہ لرزہ چھا گیا
جب حقیقت جھوٹ سے ٹکرا گئی


جب ترے پیکر سے نظریں ہٹ گئیں
آنکھ میں پھر اک نمی سی آ گئی


گھنٹیاں سی بج اٹھی تھیں ہر طرف
زلف تیری جس گھڑی لہرا گئی


ٹائروں کی زد میں کیسی چیخ تھی
شہر کی ساری فضا تھرا گئی


پھول کی خوشبو تھی عابد کی غزل
رات ساری انجمن مہکا گئی

حنیف عابد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم